استاد نے چھٹی کے دن سکول بُلاکر کنواری شاگرد کو حاملہ کر دیا اور پورا دن مزے کئے

دوستو میں ایک یونیورسٹی میں پڑھا تا ہوں میں نے کبھی بھی کسی لڑکی کو بری نظر سے نہیں دیکھا تھا یہاں ہر طرح کی لڑکی تھی جو کہ اپنے آپ میں کافی خو بصورت تھیں لیکن ان میں سے کبھی بھی کسی لڑکی کو میں نے گندی نظر سے نہیں دیکھا تھا لیکن کچھ وقت سے مجھے ایک لڑکی جو کہ اتنی ہ پیاری بھی نہیں تھی

لیکن اس کی آواز اور اس کی بڑی گانڈ بہت پیاری تھی جسے دیکھ کہ مجھے سیکس چڑھتا تھا میں آہستہ آہستہ اس کے خمار میں ڈوبنے لگا میں اس کے کافی قریب آ گیا تھا اور وہ بھی مجھ سے کافی فری ہو گئی تھی ہم ایک دوسرے سے بالکل بھی گھبراتے نہیں تھے اسے میں نے دوستانہ ماحول دے کے اپنے قریب کر لیا تھا جس کی وجہ سے وہ مجھ سے جھجک محسوس نہیں کرتی تھی

لیکن میں اس کی بڑی گانڈ کو دیکھ کر ٹھنڈی آہیں بھرتا تھا اور سوچتا تھا کہ میں اس کو کب چودوں گا میں اس کی گانڈ کا سرور محسوس کرتا پھر میں نے ایک دن اسے شاپنگ کروائی اور اسے اپنے ساتھ اپنے گھر پہ لے گیا وہ ڈری ڈری میرے گھر میں داخل ہو رہی تھی اس نے مجھ سے پوچھا آ پ اکیلے رہتے ہیں میں نے جواب دیا نہیں دوستو میری بیوی

اور میں ہم دونوں ہی یہاں رہتے ہیں ہماری کوئی اولاد نہیں ہے جس کی وجہ سے اب میری بیوی بہت اداس رہتی ہے وہ بالکل سیکس کی دیوانی نہیں رہی وہ پوری طرح سے ٹھنڈی ہو چکی ہے لیکن اس وقت وہ اپنے میکے پندرہ دن کے لیے گئی ہے کیونکہ اس کی بہن کی شادی ہے یہ بات جب میں نے روشنی کو بتائی تو اس کا ڈر کافی حد تک ختم ہو گیا

اور وہ بلا جھجک اندر داخل ہو گئی اندر آتے ہی اس نے مجھے گلے لگا لیا میں حیران ہو گیا مجھے اندازہ بھی نہیں تھا کہ وہ مجھ سے بھی زیادہ بے تاب ہے میں نے بھی اسے گلے لگایا اور میں اسے چومنے لگا ہمدونوں کافی دیر تک ایک دوسرے کو کس کرتے رہے اس کے بعد ہم نے اپنا سامان وہاں سے اٹھایا اور اسے دوسرے کمرے میں رکھا اور اس کے بعد صوفے پہ آ کہ بیٹھ گئے

پھر ہم سیکسی باتیں کرنے لگے وہ میرے بارے میں پوچھنے لگی میں نے اسے ساری کہانی بتا دی پھر میں نے اس سے اسکے بارے میں پوچھا تو وہ مجھے کہنے لگی اسے سیکس کے بارے میں پہلی بار بارہ سال کی عمر میں پتہ چلا تھا اس کے بعد اس کا دل سیکس کرنے کو کرتا تو وہ خود کو اپنی انگلیوں سے مزا دیتی اور سیکس کے مزے لیتی لیکن اب آہستہ آہستہ اسے یہ بھی بورنگ لگتا ہے اب وہ چاہتی ہے کہ کسی مرد سے سیکس کروائے تو میں نے سنتے ہی کہا اگر تم چاہو تو وہ مرد میں بن سکتا ہو تمہارے لیے

وہ مسکرا کہ مجھے کہنے لگی تو پھر جیسے میں کہوں ویسے کرنا پڑے گا میں نے کہا مجھے منظور ہے تو وہ مجھے کہنے لگی تو ٹھیک ہے اپنے سارے کپڑے اتار کہ میرے سامنے کھڑے ہو جائیں تو میں نے اپنی پینٹ اور شرٹ اتار دی لیکن پھر وہ مجھے کہنے لگی میں نے کہا سارے کپڑے میں نے ابھی انڈر وئیر پہنا ہوا تھا میں نے وہ بھی اتار دیا اس کے بعد اس نے مجھے ننگا دیکھا تو وہ بھگ

کہ آئی اور میرے لن پہ پیار کرنے لگی میں دل ہی دل میں بہت خوش ہوا کہ مجھے کوئی محنت نہیں کرنی پڑی اسے منانے کے لیے اس کے بعد وہ مجھے بے چینی سے سیکس کرنے لگی اور اسنے اپنے کپڑے بھی اتار دیے اور میں اس کی بڑی چھاتی اور اس کی بڑی گانڈ کو دیکھ کہ خوش ہو گیا

لیکن یہ میں نے اسکو ظاہر نہیں کیا کہ اس کی بڑی گانڈ کا میں بہت دیوانہ ہوں میں نے اپنے پیروں پہ بیٹھتے ہوئے اس کی چوت کو دیکھا جو کہ بہت خوبصورت تھی میں اسے سک کرنے لگا اسے سک کرتے ہوئے مجھے بھی بہت مزا آ رہا تھا

اور اس کی آوازیں بڑی مسحور کن تھیں وہ بے تاب ہو رہی تھی اس کی زبان خشک ہو رہی تھی میں بھی اس کے مزے لے رہا تھا اب میں نے اس کی چھاتیوں کو سک کیا تو اسکی آواز اور بھی بلند ہوگئی میں سوچنے لگا کہ اسے بہت مزا آ رہا ہے میں نے اپنے لن کو اس کی چوت کے دروازے پہ رکھا اور رگڑنے لگا اسے اور مزا آنے لگا اب وہ میرے لن کو خود رگڑنے لگی مجھے جوش آنے لگا اب میں نے اسے نیچے لٹا لیا اور اس کے اندر اپنا لن ڈال دیا لیکن وہ بہت ٹائیٹ تھی اب میں اور زور لگانے لگا اس نے درد سے اپنے ناخن میری کمر میں چبھو دیے

مجھے درد ہو رہا تھا لیکن اس کی چوت کے مزے کے آگے کچھ بھی نہیں تھا میں رکا نہیں اور زور زور سے جھٹکے لگانے لگا اسے درد ہو رہا تھا لیکن وہ برداشت کر رہی تھی کچھ ہی دیر میں میں نے اس کی چوت کو کھول دیا اور اسے زور سے چودنے لگا اسے بھی مزا آنے لگا اب میں اسے کافی دیر تک چودتا رہا یہاں تک کہ میں فارغ ہونے والا ہو گیا اور میں نے اس سے پوچھا کہ کہاں گراؤں

تو وہ کہنے لگی میرے اندر مت گرانا میری چھاتیوں کے درمیان میں فارغ ہو جاؤلیکن میں اس کے اندر گرانا چاہتا تھا اس لیے میں نے زور سے جھٹکا لیا اور اپنی ساری منی اس کے اندر ہی گرا دی اس کے بعد میں اسے دو گھنٹے تک چودتا رہا اور میں نے اس کی گانڈ کے کالے سوراخ میں بھی اپنا لن ڈال کہ اسے چودا میں اسے دو سال تک چودتا رہا اس وقت تک جب وہ دوسرے شہر میں نوکری کےلیے نہ چلے گئی وہ ساری چودائی کی کہانیاں بھی میں آپ کو کسی اور دن سناؤں گا

اپنا تبصرہ بھیجیں