ایک انڈونیشین مکینک نے اپنا دیرینہ خواب پورا کرنے کے لیے دونوں جانب سے چلنے والی گاڑی تیار کی ہے

ایک انڈونیشین مکینک نے اپنا دیرینہ خواب پورا کرنے کے لیے دونوں جانب سے چلنے والی گاڑی تیار کی ہے۔مقامی میڈیا کے مطابق 71 سالہ مکینک رونی گناوان کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ اس کے پاس ایسی گاڑی ہو جو آگے اور پیچھے دونوں جانب سے چلتی ہو۔رونی نے اپنے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے دو گاڑیوں کےاگلے حصے کو جوڑنے کا فیصلہ کیا۔

انڈونیشین انجینئر نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ اس نے یہ کام تین ماہ میں مکمل کیا جس میں 3 ویلڈرز، 3 پینٹرز اور کئی مکینکوں نے حصہ لیا۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ انڈونیشین انجینئر کی کار مکمل طور پر فعال ہے جسے دونوں جانب سے چلایا جا سکتاہے۔تاہم انڈونیشین حکام نے مقامی انجینئر کی تیار کردہ کار ضبط کر لی ہے

اور ان کا کہنا ہے کہ رونی کی کار ٹریفک سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ایک سینئر ٹریفک پولیس افسر نے کہا ہے کہ اس کار نے متعدد ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں کی ہیں، کار کی پچھلی لائٹ بھی نہیں ہے اور اس کی دو نمبر پلیٹس ہیں اور دونوں کے رجسڑیشن نمبر بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔بعد ازاں پولیس نے کار روڈ پر نہ لانے کی تحریری درخواست کے بعد اسے اس کے مالک کے حوالے کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں