کسی بھی لڑکی یا عورت کو 5 منٹوں میں 5 بار فارغ‌کرنے کا کامیاب طریقہ

اس کا نام ڈاکٹر احمد تھا اور وہ سعودی عرب کا معروف طبیب تھا۔ لوگ اس سے مشورہ لینے کے لیے کئی کئی دن تک انتظار کرتے۔ اس کی شہرت بڑھتی چلی گئی۔دارالحکومت میں ایک انٹر نیشنل میڈیکل کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں اسے بھی دعوت دی گئی۔ اس کی خدمات کے پیش نظر فیصلہ ہوا کہ وہ اس کانفرنس میں نہ صرف کلیدی مقالہ پڑھے گا بلکہ اس موقع پر اسے اعزازی شیلڈ اور سرٹیفکیٹ بھی دی جائے۔ڈاکٹر احمداپنے گھر سے ائیرپورٹ کی طرف روانہ ہوا۔

وہ بڑا خوش اور پُرسکون تھا۔ آج شام اس کی تکریم اور عزت کی جانے والی تھی۔ اس کا سوچ کر وہ اور بھی زیادہ آسودہ ہوگیا۔ ائیر پورٹ پر وہ معمول کی چیکنگ کے بعد فوراً ہی ہوائی جہاز میں سوار ہوگیا۔ اس کی فلائٹ وقت کے مطابق پرواز کر گئی۔ کوئی آدھ پون گھنٹے کے بعد ائیر ہوسٹس نے اعلان کیا ہم معذرت خواہ ہیں کہ طیارے میں فنی خرابی کے باعث ہم قریبی ائیر پورٹ پر اتر رہے ہیں۔ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔

فلائٹ بغیر کسی رکاوٹ اور حادثے کے قریبی ائیر پورٹ پر اتر گئی۔ مسافر جہاز سے اتر کر لاؤنج میں چلے گئے۔ ڈاکٹر احمد بھی دیگر مسافروں کے ساتھ طیارے کی فنی خرابی کے درست ہونے کا انتظار کرنے لگے۔تھوڑی دیر کے بعد ائیر پورٹ اتھارٹی نے اعلان کیا:خواتین وحضرات! انجینئر نے بتایا ہے کہ فنی خرابی کے درست ہونے کا فوری طور پر کوئی امکان نہیں ہے۔ لہٰذا مسافروں کے لیے متبادل طیارہ کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ یہ طیارہ کب آئے گا ؟کسی کو علم نہ تھا۔ تھوڑی دیر بعد نیا اعلان ہوا کہ متبادل طیارہ کل ہی آسکتا ہے۔ ہم اس زحمت کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ اب آپ کو ہوٹل پہنچا دیا جائے گا۔
ڈاکٹر احمدکے لیے یہ اعلان نہایت تکلیف دہ اور پریشان کر دینے والا تھا۔ آج رات تو اس کی زندگی کی نہایت اہم رات تھی۔ وہ کتنے ہفتوں سے اس رات کا منتظر تھا کہ جب اس کی تکریم ہونی تھی۔ وہ کرسی سے اٹھا اور ائیر پورٹ کے اعلی افسر کے پاس جا پہنچا، اپنا تعارف کرایا اور کہا کہ میں انٹر نیشنل لیول کا ڈاکٹر ہوں۔ میرا ایک ایک منٹ قیمتی ہے ۔ مجھے آج رات دارالحکومت میں مقالہ پڑھنا ہے۔ پوری دنیا سے مندوبین اس سیمینار میں شرکت کے لیے آئے ہوئے ہیں اور آپ لوگ ہمیں یہ خبر سنا رہے ہیں کہ متبادل طیارہ24 گھنٹے بعد آئے گا۔متعلقہ افسر نے اسے جواب دیا: محترم ڈاکٹر صاحب ہم آپ کی عزت اور قدر کرتے ہیں ۔

ہمیں آپ کی اور دیگر مسافروں کی مشکلات کا اندازہ ہے۔ لیکن یہ ہمارے بس کی بات نہیں اور نیا طیارہ فوری طور پر فراہم کرنا میرے بس میں نہیں ہے۔البتہ وہ شہر جہاں آپ کو کانفرنس میں شرکت کے لیے جانا ہے، یہاں سے بذریعہ کار سے صرف تین چار گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ اگر آپ کو بہت جلدی ہے تو ائیر پورٹ سے کرایہ پر گاڑی حاصل کریں اور خود ڈرائیو کرتے ہوئے متعلقہ شہر پہنچ جائیں۔ ‘‘
ڈاکٹر احمدلمبی ڈرائیونگ کرنا پسند نہ کرتے تھے۔ مگر اب یہ مجبوری تھی اس کے پاس کوئی متبادل راستہ تھا ہی نہیں۔اس نے متعلقہ آفیسرکے مشورے کوپسند کیا اور ایئر پورٹ سے کار کرایہ پر لے کر متعلقہ شہر کی جانب روانہ ہو گیا۔ ابھی کچھ ہی فاصلہ طے کیاتھا کہ اچانک موسم خراب ہو نا شروع ہو گیا۔آسمان پر گہرے بادل نمو دار ہوئے۔تیز آندھی اس پر مستزادتھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے زور دار بارش شروع ہوگئی اور ہر طرف اندھیر ا چھا گیا۔ موسم کی خرابی کی و جہ سے اسے اندازہ ہی نہ ہوا کہ وہ کس سمت جارہا ہے۔ دو گھنٹے تک وہ مسلسل چلتا گیا،بالآخر اسے یقین ہو گیاکہ وہ راستے سے بھٹک چکا ہے۔
اب اسے بھوک اور تھکاوٹ کااحساس بھی بڑی شدت سے ہونے لگا۔اس نے سوچا تھا : تین چار گھنٹے ہی کا سفر تو ہے ، ا س لیے اس نے اپنے ساتھ کھانے پینے کی کوئی چیز بھی نہ لی تھی۔اب اسے کسی ایسے ٹھکانے کی تلاش تھی جہاں سے اسے کھانے پینے کی کوئی چیز مل سکے۔وقت تیزی سے گزرتا رہا تھا۔ چاروں طرف رات کا اندھیرا بھی چھا چکا تھا۔ ایک چھوٹے سے گاؤں کے پاس سے گزرتے ہوئے اس نے غیر شعوری طور پراپنی گاڑی ایک چھوٹے سے گھر کے سامنے روک دی۔

اس کا ہاتھ گھر کے دروازے پر دستک دے رہا تھا جب اندر سے ایک بوڑھی عورت کی نحیف و ناتواں آوازاس کے کانوں میں پڑی جو کہہ رہی تھی:جو بھی ہو اندر آجاؤ دروازہ کھلا ہے۔ ڈاکٹراحمدگھر میں داخل ہو اتو دیکھا کہ ایک بوڑھی عورت متحرک کرسی پر بیٹھی ہے۔ اس نے خاتون سے کہا: اماں! میرے موبائل کی بیٹری ختم ہو چکی ہے، کیا میں اپنا موبائل چارج کر سکتا ہوں؟
بوڑھی عورت مسکرا کر کہنے لگی: میرے بیٹے کون سے فون کی بات کررہے ہو؟ تمھیں معلوم نہیں اس وقت تم کہاں ہو؟ ہما رے ہاں نہ تو بجلی ہے نہ ٹیلی فون،یہ تو ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، جہاں شہری سہولتوں کاکوئی تصور نہیں ہے پھر اس نے مزید کہا! میرے بیٹے وہ سامنے میز پر چائے اور کھانا رکھاہے۔لگتا ہے کہ تم بھوکے اور پیاسے ہو۔راستہ بھٹک گئے ہو۔تم پہلے کھانا لو پھر بات کریںگے۔ لگتا ہے تم خاصا طویل فاصلہ طے کر کے آئے ہو۔ ڈاکٹر احمدنے اس بوڑھی خاتون کا شکریہ ادا کیا اور کھانے پر ٹوٹ پڑا ۔سفر کی تھکاوٹ سے اسے شدید بھوک لگ رہی تھی ۔اچانک خاتون کی کرسی کے ساتھ والی چارپائی پر حرکت ہوئی اور ایک معصوم نے رونا شروع کر دیا۔خا تون نے اس بچے کوتھپک کر سلایا اور اسے دعائیں دینا شروع کیں۔وہ اس بچے کی صحت اور سلامتی کے لیے لمبی لمبی دعائیں کر رہی تھی۔
ڈاکٹراحمدنے کھانا کھایا اور بوڑھی اماں سے کہنے لگا: اماں جان! آپ نے اپنے اخلاق ‘کرم اور میز بانی سے میرا دل جیت لیا ہے۔آ پ لمبی لمبی دعائیں مانگ رہی ہیں ۔ امید ہے کہ اللہ تعالی آپ کی دعائیں ضرور قبول کرے گا۔ ’’میرے بیٹے! وہ بوڑھی گویا ہوئی۔‘‘ میرے اللہ نے میری تمام دعائیں سنی اور قبول کی ہیں۔ہا ں بس ایک دعا باقی ہے جو میرے ضعفِ ایمان کی وجہ سے پور ی نہیں ہوئی ۔تم تو مسافرہو، دعا کرو کہ وہ بھی قبول ہو جائے۔

ڈاکٹر احمدکہنے لگا: اماں جان وہ کونسی دعا ہے جو قبول نہیں ہوئی۔آپ مجھے اپنا کام بتائیں میں آ پ کے بیٹے کی طرح ہوں ۔اللہ نے چاہا تو میں اسے ضرورکروں گا۔آپ کی جو مدد میرے بس میں ہو گی ضرور کروں گا۔ خاتون کہنے لگی: میرے عزیز بیٹے !وہ دعا اور خواہش میرے اپنے لیے نہیں بلکہ اس یتیم بچے کے لیے ہے جو میرا پوتا ہے۔اس کے ما ں باپ کچھ عرصہ پہلے فوت ہو چکے ہیں۔ اسے ہڈیوں کی ایک بیما ری ہے جس کی وجہ سے چلنے پھرنے سے معذو ر ہے۔میں نے قریبی حکیموں، مہمانوں سے اس کے بڑے علاج کرائے ہیں مگر تمام اطباء اس کے علاج سے عاجز آ گئے ہیں ۔
لوگو ں نے مشورہ دیا ہے کہ اس ملک میں ایک ہی ڈا کٹر ہے

جو اس ہڈیوں کے علاج کا ما ہر ہے، اس کی شہرت دور دور تک ہے ۔
وہ بڑا مانا ہوا سرجن ہے۔ وہی اس کا علاج کر سکتاہے،

مگر وہ تو یہاں سے بہت دو ر رہتا ہے پھر سنا ہے بہت مہنگا بھی ہے۔
اس تک پہنچنا کوئی آسان کام تو نہیں ہے۔ تم میری حالت تو دیکھ ہی رہے ہو،میں بوڑھی جان ہوں۔کسی وقت بھی بلاوا آ سکتا ہے۔مجھے ڈر ہے کہ میرے بعد اس بچے کی نگہداشت کرنے والا کوئی نہیں ہو گا۔میں ہر وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ کوئی سبب پیدا کر دے کہ اس بچے کا اس ڈاکٹر سے علاج ہو سکے۔ عین ممکن ہے کہ اس یتیم بچے کو شفاء اسی ڈاکٹر کے ہاتھوں مل جائے۔
ڈاکٹر احمداپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا، اس نے روتی ہوئی آواز میں کہا: اماں جان! میرا طیارہ خراب ہوا، راستے میں اُترنا پڑا کار کرائے پر لی، خوب طوفان آیا‘ آندھی او ر بارش آئی، راستہ بھول گیا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کے گھر زبر دستی بھجوا دیا۔اما ں آپ کی آخری دعا بھی قبول ہو چکی ہے۔اللہ رب العزت نے ایسے اسباب مہیا کر دیے ہیں کہ وہ ہڈیوں کا بڑا ڈاکٹر خود چل کر آپ کے گھر آگیا ہے۔ اب میں آپ کے پوتے کا علاج کروں گا۔‘‘

جب اللہ تعالی اپنے کسی بندے کی سنتا ہے تو پھر اس کوپورا کرنے کے لیے اسباب بھی خود ہی مہیا فرما دیتا ہے۔کائنات کی ساری مخلوق چاہے وہ جاندار ہو یا بے جان، اللہ کے حکم اور اس کی مشیّت کی پابند ہے۔ اس واقعے میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالی نے زمین وآسمان کی مختلف قوتوں کو کام میں لا کر بوڑھی اماں کی دعا کو پورا کرنے میں لگا دیا۔
ارشاد باری تعالی ہے:

أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ
بھلا کون بیقرار کی التجا قبول کرتا ہے۔ جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں مگر) تم بہت کم غور کرتے ہو.

جنوب مشرقی ایشیاءکے ملک کمبوڈیا میں ایک لڑکی کی شادی ہوئی لیکن جب وہ سہاگ رات کی صبح سو کر اٹھی تواپنے ساتھ بستر پر ایک ایسے شخص کو سوتے پایا کہ زندگی ہی اجڑ گئی۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق لڑکی کی سہاگ رات پر اس کے دولہا کی بجائے کوئی اور شخص اس کے بیڈروم میں گھس آیا اور دولہا بن کر اس کی زندگی برباد کر ڈالی۔

ہوا کچھ یوں کہ اس کے دولہا نے شادی کی رات کثرت سے شراب پی اور پھر نشے کی زیادتی کے باعث گھر کے باہر ہی ایک میز پر سو گیا۔ اٹھارہ سالہ کوین کانسینگ نامی ملزم نے جب دولہے کو باہر سوتے دیکھا تو اس کے اندر کا شیطان جاگ اٹھا اور وہ دولہا کا روپ دھار کر دلہن کے کمرے میں گھس گیا اور اس کی عزت سے کھلواڑ کر ڈالا۔

اگلی صبح جب دلہن نے کسی اور شخص کو بیڈ پر سوتے پایا تو چیخنے چلانے لگی جس پر اس کے سسرال والے کمرے میں آئے اور ملزم کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ اس بدطینت شخص کی وجہ سے دولہا اور اس کے گھر والوں نے بھی اس لڑکی کو اپنانے سے انکار کر دیا ہے اور شادی ختم کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ملزم نے پولیس کے سامنے اعتراف جرم کر لیا ہے۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ ”جب میں نے دولہا کو گھر کے باہر نشے میں دھت پڑے دیکھا تو موقع غنیمت جان کر دلہن کے کمرے میں چلا گیا۔ میں نے اس کے ساتھ جنسی تعلق استوار کیا اور پھر وہیں اس کے ساتھ سو گیا۔“

آپ جن کینو کے چھلکوں کو بالکل فالتو اور بیکار سمجھ کر پھینک دیتے ہیں وہ دراصل اپنے اندر کئی ایسے پوشیدہ فوائد رکھتے ہیں جن سے جلد کی خوبصورتی میں بے پناہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ آج ہم آپ کو کینو کے چھلکوں کے ایسے فوائد بتانے جارہے ہیں جن سے مستفید ہوکر آپ اپنی جلد کو حسین اور جازِب نظر بنا سکتے ہیں۔ تو آپ بھی جانیں اور اپنی جلد کو

خوبصورت بنائیں۔سردی اپنے ساتھ کینو کو بھی لاتی ہے ایسے میں کینو ضرور کھائیں لیکن ان کے چھلکوں کو نہ پھینکیں بلکہ انہیں خشک کرکے پیس لیں اور سارا سال استعمال کریں۔ سب سے پہلے کینو کے چھلکوں کو 2 سے 3 دن دھوپ میں خشک کرلیں۔پھر جب وہ سخت ہوجائیں تو انہیں پیس کر کسی جار میں محفوظ کر لیں۔ اس کے فوائد کیا کیا ہیں اب ہم آپ کو وہ بتانے جارہے ہیں۔ رنگت میں نکھار ماہرین کے مطابق کینو کے چھلکوں کو دہی میں ملا کر اسے چہرے پر مساج کرنے اور 15 منٹ تک لگانے سے رنگت میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔ آئلی اسکن سے نجات سب سے پہلے کینو کے چھلکوں میں انڈے کی سفیدی اور لیموں کے رس کے چند قطرے ملائیں۔ اور پھر اسے چہرے پر لگا کر تقریباً 15 منٹ کے لئے چھوڑ دیں اس کے بعد دھولیں جلد سے تیل غائب ہوجائے گا۔ اس عمل کو ہفتے میں ایک بار ضرور کریں۔ دانوں کا خاتمہ دانوں کے خاتمے کے لئے کینو کے چھلکوں میں پانی ملا کر پیسٹ بنا لیں۔ اس کے بعد اس پیست کو اپنے چرے پر اپلائی کریں اور 15 منٹ تک لگا رہنے دیں پھر پانی سے منہ دھو لیں۔

رکشے میں سوار خواتین کو تنگ کرنے والے اوباش نوجوانوں کو موقع پر ہی سزا مل گئی۔تفصیلات کے مطابق خواتین کا تحفظ اب ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے۔کیونکہ خواتین کو مختلف جگہوں پر ہراساں کرنے کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔لیکن اب خواتین کو سڑک پر بھی ہراساں کیا جانے لگا ہے۔اسی طرح سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہی ہے جس میں کچھ اوباش نوجوان جو کہ موٹر سائیکل پر سوار ہیں،اور رکشے میں سوار خواتین کو مسلسل تنگ کر رہے ہیں اور ان پر آوازیں بھی کس رہے ہیں۔
یہ نوجوان رکشے میں موجود خواتین کا پیچھا کرتے ہیں لیکن انہیں موقع پر ہی ایسی سزا مل گئی کہ اس کو دیکھنے والے تمام نوجوان آئیندہ خواتین کو تنگ کرنے سے توبہ کر لیں گے۔ کیونکہ خواتین کو تنگ کرنے والے نوجوانوں کی موٹر سائیکل رکشے سے ٹکرا گئی اور موٹر سائیکل پر سوار نوجوان نیچے گر گئے اور بری طرح زخمی ہو گئے۔
لیموں کو پینے یا کھانوں میں میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن آپ کو جان کر یہ شدید حیرت ہوگی کہ رات کو اپنے سرہانے رکھ کرسونے سے آپ کے جسم میں حیران کن تبدیلی ہوگی اور آپ یہ طریقہ ضرورآزمائیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارے اردگرد منفی توانائی موجود ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہم ذہنی تناﺅاور مالی پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ اپنے ہمسفر کے ساتھ تعلقات بھی مثالی نہیں رہتے اورلڑائیاں بھی ہوتی ہیں

جس کی وجہ ماہرین منفی توانائی کو بتاتے ہیں۔لیموﺅں میں یہ طاقت موجود ہے کہ یہ آپ کے گرد موجود منفی توانائی کے ہالے کو ختم کرتے ہیں اور اسے مثبت توانائی میں تبدیل کرتے ہیں جس کی وجہ سے آپ کی زندگی پرسکون ہونے لگتی ہے۔آپ کو اہیے کہ تین لیموں کاٹیں اور ایک باﺅل میں نمک ڈال کر انہیں باﺅل میں رکھ دیں۔اسے اپنے بیڈ کے نیچے یا بیڈ روم میں رکھ دیں تاکہ اس کی خوشبو سے آپ اپنے آپ کو تروتازہ محسوس کرتے رہیں۔اگلے دن لیموﺅں کو ٹچ مت کریں بلکہ انہیں کسی شاپنگ بیگ میں ڈال کر گھر سے باہر پھینک دیں۔اگلے دو دن یہ عمل اسی طریقے سے دہرائیں۔اسی طرح اپنے گھر میں لیموں کا سپرے کریں جس سے منفی توانائی کم ہوگی۔لیموں کے رس کو پانی میں ملاکر سپرے والی بوتل میں ڈالیں اور گھر کے کونوں میں سپرے کرنے سے آپ اپنے اندر ایک مثبت تبدیلی دیکھیں گے۔لیموں کے رس کے فوائد اگر انسان جاننا شروع ہو جائے تو اس کے ان گنت فوائد کی انداز ہ لگانا مشکل ہی نہیں بلکے ناممکن بھی ہے ، لیموں کو عام طور پر کھانوں یا پھر مشروب میں استعمال کیا جاتا ہے ، گرمی میں اس کو زیادہ تر مشروب میں استعمال کیا جاتا ہے ، ماہرین نے اس کا ایک ایسا فائدہ بتا یا ہے کہ جان کر آپ بھی آزمائے بغیر نہ رہ سکیں گے اگر آپ رات کو سونے سے قبل اسے تکیے ک نیچے رکھ کر سویا جائے تو آپ کے جسم پراس کے
کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں جان کر حیرت میں ڈوب جائیں گے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم روزمرہ کی زندگی میں اکثر منفی توانائی میں مصروف رہتے ہیں جس کی وجہ سے ہم ذہنی تناؤاور مالی پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ اپنے ہمسفر کے ساتھ تعلقات بھی مثالی نہیں رہتے اورلڑائیاں بھی ہوتی ہیں جس کی وجہ ماہرین منفی توانائی کو بتاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں