گلوگارہ حمیرا ارشد کی سہاگ رات حمیرا کی زبانی

گلوگارہ حمیرا ارشد کی سہاگ رات حمیرا کی زبانی گلوگارہ حمیرا ارشد کی سہاگ رات حمیرا کی زبانی گلوگارہ حمیرا ارشد کی سہاگ رات حمیرا کی زبانی

نامورگلوکارہ حمیراارشد نے اپنی شادی کی پہلی رات کی آپ بیتی خود ہی ایک نجی ٹی وی چینل کے مارننگ شو میں بیان کردی ،شادی کے موقع پر دولہا دلہن کی تیاریوں کی داستان کے ساتھ ساتھ شادی کی پہلی رات ہی پکڑے جانیوالے جھوٹ نے گلوکارہ کو رلادیا، باتیں کچھ اور تھیں لیکن حقیقت کچھ اور ہی نکلی ۔

حمیراارشد کاکہناتھاکہ کبھی بھاری جیولری نہیں پہنی ، کان کی بالیاں بہت بھاری تھیں اور ایسے لگتا تھاکہ ہاتھ سے اٹھا رکھاہے ، بال چھوٹے تھے لیکن جُوڑا بنا رکھاتھا اور اس کیلئے بڑی تعداد میں پن استعمال کی گئیں ۔ شادی سے پہلے تین چاردن تک سونہیں سکی

اور جب بیڈروم میں پہنچی تو وہ اکٹھے بال چبھ رہے تھے ، شوہرآیا تو وہ بھی ایک دم آکر لیٹ گیااورخراٹے مارنے لگا، میں نے بھی جلدی میں دوپٹہ اور بالوں میں لگے پن اتارے ، سخت نیند آرہی تھی ، میں بھی سوگئی ، ایساسوئے کہ اگلی صبح گھر والے دروازہ پیٹتے رہے کہ کہیں کچھ ہونہیں گیا۔

اینکر کا گھونگھٹ اٹھانے سے متعلق سوال ادھوراہی رہ گیا اور حمیرانے بتایاکہ اگلی صبح جب پھوپھو کی بیٹی ناشتہ لے کر آئی تو وہ دروازہ کھٹکھٹاتی رہی اورواپس نیچے چلی گئی، گھنٹہ ڈیڑھ بعد دوبارہ اوپر آئی اور پھر دروازہ کھٹکھٹایا، جب دروازہ کھولا تو پھوپھو کی بیٹی اندر آئی تو میں اتنی سخت نیند میں تھی اور شام کے کوئی چار پانچ بج گئے تھے ۔

پھوپھوکی بیٹی نے کہاکہ اٹھو تم لوگ ابھی تک سو رہے ہو ،احمد کومیں اٹھا رہی تھی کہ احمد پلیز اٹھ جاﺅ، اور مزے کی بات کہ مجھے خراٹوں سے بہت نفرت تھی،شادی سے پہلے ہی میں نے احمد سے کہا تھاکہ تم خراٹے تو نہیں مارتے تو کہتا تم پاگل ہوگئی ہو میں تو بالکل بھی خراٹے نہیں مارتا۔

میں نے کہا کہ اگر تم خراٹے لیتے ہو تو تمہاری میری شادی کینسل، احمد اونچی اونچی خراٹے مار رہا تھا اورمیں سمجھی کہ یہ مجھ سےمذاق کررہا ہے، تو میں اس کے پاس جا کر اس کی آنکھیں چیک کرنے لگی کہ یہ مذاق کررہا ہے کہ نہیں،

جب اس نے زور زور سے خراٹے لئے تو میں پاس بیٹھ کر رونا شروع ہوگئی، کہ تم نے میرے ساتھ جھوٹ بولا ہے دھوکا دیا ہے“۔یادرہے کہ گزشتہ دنوں دونوں میاں بیوی میں اختلافاتشدت اختیار کرگئے تھے اور معاملات ایک دوسرے کے خلاف پریس کانفرنسز اور طلاق کے مطالبے تک پہنچ گئے تھےلیکن پھر خوش قسمتی سے معاملات سلجھ گئے

اپنا تبصرہ بھیجیں